خلا-کائنات-سائنس-سپیڈ-آف-لائٹ-سائنٹسٹ-کہکشاں-آسمان-fastest-light-light-year-earth-Milky-Way-galaxy-400-billion-suns-stars-local-groups
کائنات کی جدید ترین تہذیب۔

انسانی ارتقاء (Human Evolution)


سائنس کے مطابق ہماری یہ کائنات تقریباً 13 بلین سال پہلے وجود میں آئ۔ اور ہم انسان اس دنیا پر تقریباً 2 لاکھ سال پہلے وجود میں آئے۔ اس کا مطلب اگر ہم کائنات کی قدرت سے ہم انسانوں کے وقت کا موازنہ کریں تو یہ صرف ایک پلک جھپکنے جتنا ہے۔ اور انہیں دو سالوں میں ہم انسان پہلے جنگلوں میں رہ کر جنگلی جانوروں کا شکار کر کے اپنی زندگی گزارتے تھے۔ اور صرف سو سے دوسوسال میں ہم انسانوں نے کافی ترقی کر لی ہے۔ آج ہماری سائنس اور ٹیکنالوجی بہت ایڈوانس ہو چکی ہے۔ اور آنے والے سالوں میں ہم اور بھی زیادہ ایڈوانس ہونے والے ہیں۔

خلا-کائنات-سائنس-سپیڈ-آف-لائٹ-سائنٹسٹ-کہکشاں-آسمان-fastest-light-light-year-earth-Milky-Way-galaxy-400-billion-suns-stars-local-groups
ٹیکنالوجی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ توانائی کا ہے
اور ان سب ترقی اور ٹیکنالوجی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ توانائی کا ہے۔ ہم ہماری روزانہ کی زندگی میں فیکٹریز میں گاڑیوں میں گھروں میں اونچی اونچی عمارتوں میں اس توانائی کا استعمال کرتے ہیں۔ اور آج کے وقت میں ہم ان سب ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے 17.35 ٹیراواٹ توانائی پیدا کرنے میں کامیاب ہیں۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم چاند تک پہنچ چکے ہیں۔ ہر روز خلا میں سیٹلائٹ بھیج رہے ہیں۔ سپر کمپیوٹرز ایجاد کر رہے ہیں۔ اور آنے والے وقت میں مارس پر رہنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اور ان سب کو دیکھ کر ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت زیادہ ایڈوانس ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں۔ اس آرٹیکل کو پورا پڑھنے کے بعد آپ کا یہ خیال بھی ختم جائے گا۔


نکولائ کارڈاشیو (Nikolai Kardashev)


سال 1964 میں سوویت ایسٹرونومرس نکولائ کارڈاشیو نے ایک سکیل کی۔ ایجاد کی جس کا نام ہے کارڈا شیو سکیل اس سکیل کا اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ ایک تہذیب ہر سال کتنی توانائی پیدا کرتی ہے اور کتنی توانائ کا استعمال کرتی ہے کیونکہ توانائی سے پتا چلتا ہے کہ کونسی تہذیب کتنی ایڈوانس ہے۔ اس سکیل کی مدد سے کارڈا نے اپنی ایک کتاب میں تین طرح کی تہذیب کا ذکر کیا ہے۔ 

              

ترقی-انسان-کائناتٹخلا-کائنات-سائنس-سپیڈ-آف-لائٹ-سائنٹسٹ-کہکشاں-آسمان-fastest-light-light-year-earth-Milky-Way-galaxy-400-billion-suns-stars-local-groups-توانائی-یکنالوجی-
civilization       Civilization         Civilization

اور آج کا یہ ہمارا آرٹیکل اسی مضمون پر مشتمل ہے۔ چلئے اب ان تہذیب کے بارے میں تھوڑا قریب سے جانتے ہیں۔


ٹائپ 1 تہذیب (civilization)


کارڈا کی ریسرچ کے مطابق ٹائپ 1 وہ تہذیب ہے جو اپنے سیارے کی ساری توانائی قابو کرنے میں کامیاب ہے۔ اس کا مطلب ایک ایسی تہذیب جو اپنے سیارے پر موجود سارے قدرتی وسائل کا استعمال کرنے میں اور سورج سے آنے والی روشنی کو جذب کر کے اس کا پورا استعمال كرنے ميں کامیاب ہے۔


خلا-کائنات-سائنس-سپیڈ-آف-لائٹ-سائنٹسٹ-کہکشاں-آسمان-fastest-light-light-year-earth-Milky-Way-galaxy-400-billion-suns-stars-local-groups
ٹائپ 1 وہ تہذیب ہے جو اپنے سیارے کی ساری توانائی قابو کرنے میں کامیاب ہے

لیکن ہم سورج سے آنے والی توانائی کا مکمل استعمال ابھی بھی نہیں کر پائے۔ ریسرچ کے مطابق ہم سورج سے آنے والی توانائی کے 14 ہزار میں سے صرف ایک حصہ استعمال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور اس آنکڑے کو دیکھ کر ہمیں یہ لگتا ہے ہے کہ ہمیں ٹائپ 1 تہذیب بننے میں ہی ہزاروں سال لگ جائیں گے۔ لیکن دوستوں آپ دل چھوٹا مت کریں کیوں کہ جیسا میں نے آپ کو پہلے بتایا تھا کہ ہم پچھلے ہزاروں سالوں میں جتنے ایڈوانس نہیں ہوئے ہے آنے والے سو دو سو سالوں میں اس سے کہیں زیادہ ایڈوانس تہذیب بن جائیں گے۔ ٹائپ 1 تہذیب بننے کے بعد ہم وہ سب کچھ کر پائیں گے جو ہم آج نہیں کر سکتے۔ ریسرچ کے مطابق ہم آنے والے سو یا دو سو سالوں میں ٹائپ 1 تہذیب بن جائیں گے۔ لیکن یہ ٹائپ 1 تہذیب بھی ٹائپ ٹو کے سامنے پانی کا ایک قطرے کی طرح ہے۔ 


ٹائپ 2 تہذیب (civilization)


خلا-کائنات-سائنس-سپیڈ-آف-لائٹ-سائنٹسٹ-کہکشاں-آسمان-fastest-light-light-year-earth-Milky-Way-galaxy-400-billion-suns-stars-local-groups
ڈائسن سٹرکچر
اس تہذیب کا دوسرا نام اسٹیلر تہذیب بھی ہے۔ ٹائپ 2 تہذیب سورج سے آرہی ساری توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی۔ اور اس توانائی کو سورج کے پاس کسی بھی سیارے پر استعمال کر سکے گی۔ یہ سن کر ہی کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ اور شاید ناممکن بھی۔ لیکن سائنس کے مطابق کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔ اس تھیوری کو سچائی کی شکل دینے کے لئے ایک ماڈل بھی بنایا کیا گیا ہے۔ جو سورج سے نکلنے والی ساری توانائی کو جذب کرنے میں اپنی کارکردگی دکھائے گا۔ اس ماڈل کا نام ہے ڈائسن سٹرکچر۔ یہ ماڈل اصل میں ایک سیٹلائٹ کا جھنڈ ہے۔ جو کسی بھی ستارے سے نکل رہی توانائی کو جذب کرکے اس کا استعمال کرے گا۔ اور اس کے الگ الگ ماڈل بھی تیار کیے گئے ہیں-



اس ماڈل کے مطابق اگر ہم سورج سے نکل رہی ساری توانائی کہ ہے چار سو کے ساتھ 24 زیرو لگانے پر جتنے نمبر ہوتے ہیں اتنے واٹ کی توانائی کو جذب کر کے اس کا استعمال کر سکیں تب ہم ٹائپ 2 تہذیب بن جائیں گے۔ سورج کی توانائی کو جذب کرنا ہی نہیں بلکہ سورج کے پاس موجود سبھی سیاروں کا مکمل استعمال کر پائں گے۔ یہ تہزیب خلا میں گھوم رہے ایسٹرایڈ پر مائننگ کرنے میں کامیاب ہوگی۔ اب آپ کے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہوگا کہ ہم اتنی ساری توانائی کا کریں گے کیا اور اس کا استعمال کہاں کریں گے؟ تو میں آپ لوگوں کو بتا دو کہ آنے والے ہزار سالوں میں ہم ٹائپ 2 تہذیب بننے کے بعد میں جانے کیسی کیسی مشینری ایجاد کریں گے۔ روبوٹس کمپیوٹرز الیکٹرک پلینس اور خلا میں بھیجے جانے والے طرح طرح کے خلائی مقاصد، اور دوسرے سیاروں پر گھر بنانے کا کام بھی ہوگا۔ اور بھی نہ جانے کیا کیا جس کا خیال ہم گھر بیٹھے آج نہیں کر سکتے۔ چلیے اب بات کرتے ہیں اس تہذیب کی جو سب سے ایڈوانس تہذیب ہوگی۔ یعنی ٹائپ 3 تہذیب۔


ٹائپ 3 تہذیب (civilization)


اس تہذیب کا دوسرا نام گلیکٹک تہذیب بھی ہے ہے۔ اب تک تو ہم صرف اپنے ستاروں تک ہی محدود تھے۔ لیکن ٹائپ 3 تہذیب وہ تہذیب ہے جو پوری گلیکسی کی توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی۔ کیوں جھٹکا لگا، لگنے والی بات ہی ہے۔ اس تہذیب کے پاس اتنی طاقت ہوگی جس کا خیال کر پانا بھی ناممکن ہے۔ یہ تہذیب بھی ستاروں کی توانائی کو جذب کرکے اس کا استعمال کرے گی۔


خلا-کائنات-سائنس-سپیڈ-آف-لائٹ-سائنٹسٹ-کہکشاں-آسمان-fastest-light-light-year-earth-Milky-Way-galaxy-400-billion-suns-stars-local-groups
ٹائپ 3 تہذیب وہ تہذیب ہے جو پوری گلیکسی کی توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی

اور ایک اسٹرایڈ اور سیاروں پر قدرتی وسائل کیلئے مائننگ کر کے اس کا استعمال کرے گی۔ لیکن اس تہذیب اور دوسری تہذیبوں میں فرق یہ ہوگا کہ یہ تہذیب گلیکسی میں موجود سبھی سیاروں کی توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ٹائپ تھری تہذیب سیاروں کو شہروں کی طرح استعمال کرے گی۔ یعنی کبھی ایک سیارے پر بستی بسائے گی تو کبھی دوسرے پر۔ بس کبھی یہ خیال کیجئے کہ ایک ایسی تہذیب جو گلیکسی کے سارے سیاروں پر اپنی بستی بسا کر سارے ستاروں میں ڈایسن اسٹرکچر ماڈل کی مدد سے ساری توانائی کو جذب کر رہا ہے۔ یہ سوچ کر ہی ہم حیران رہ جائیں گے۔ 


نوٹ


ظاہر رہے کہ یہ اندازے سائنس کے اعدادوشمار پر مبنی ہے کیونکہ حالات بتاتے ہیں کہ آنے والی کچھ سدیوں کے اندر ہی ہو سکتا ہے کہ قیامت آ جائے۔  سو اگر ہمارے پاس کچھ سدیوں کا ٹائم ہے تو ہم اس میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔





Tags
civilization beyond earth.
civilization meaning.
civilization revolution