![]() |
| کائنات کی جدید ترین تہذیب۔ |
انسانی ارتقاء (Human Evolution)
![]() |
| ٹیکنالوجی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ توانائی کا ہے |
نکولائ کارڈاشیو (Nikolai Kardashev)
سال 1964 میں سوویت ایسٹرونومرس نکولائ کارڈاشیو نے ایک سکیل کی۔ ایجاد کی جس کا نام ہے کارڈا شیو سکیل اس سکیل کا اصل مقصد یہ جاننا ہے کہ ایک تہذیب ہر سال کتنی توانائی پیدا کرتی ہے اور کتنی توانائ کا استعمال کرتی ہے کیونکہ توانائی سے پتا چلتا ہے کہ کونسی تہذیب کتنی ایڈوانس ہے۔ اس سکیل کی مدد سے کارڈا نے اپنی ایک کتاب میں تین طرح کی تہذیب کا ذکر کیا ہے۔
اور آج کا یہ ہمارا آرٹیکل اسی مضمون پر مشتمل ہے۔ چلئے اب ان تہذیب کے بارے میں تھوڑا قریب سے جانتے ہیں۔
ٹائپ 1 تہذیب (civilization)
کارڈا کی ریسرچ کے مطابق ٹائپ 1 وہ تہذیب ہے جو اپنے سیارے کی ساری توانائی قابو کرنے میں کامیاب ہے۔ اس کا مطلب ایک ایسی تہذیب جو اپنے سیارے پر موجود سارے قدرتی وسائل کا استعمال کرنے میں اور سورج سے آنے والی روشنی کو جذب کر کے اس کا پورا استعمال كرنے ميں کامیاب ہے۔
![]() |
| ٹائپ 1 وہ تہذیب ہے جو اپنے سیارے کی ساری توانائی قابو کرنے میں کامیاب ہے |
لیکن ہم سورج سے آنے والی توانائی کا مکمل استعمال ابھی بھی نہیں کر پائے۔ ریسرچ کے مطابق ہم سورج سے آنے والی توانائی کے 14 ہزار میں سے صرف ایک حصہ استعمال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور اس آنکڑے کو دیکھ کر ہمیں یہ لگتا ہے ہے کہ ہمیں ٹائپ 1 تہذیب بننے میں ہی ہزاروں سال لگ جائیں گے۔ لیکن دوستوں آپ دل چھوٹا مت کریں کیوں کہ جیسا میں نے آپ کو پہلے بتایا تھا کہ ہم پچھلے ہزاروں سالوں میں جتنے ایڈوانس نہیں ہوئے ہے آنے والے سو دو سو سالوں میں اس سے کہیں زیادہ ایڈوانس تہذیب بن جائیں گے۔ ٹائپ 1 تہذیب بننے کے بعد ہم وہ سب کچھ کر پائیں گے جو ہم آج نہیں کر سکتے۔ ریسرچ کے مطابق ہم آنے والے سو یا دو سو سالوں میں ٹائپ 1 تہذیب بن جائیں گے۔ لیکن یہ ٹائپ 1 تہذیب بھی ٹائپ ٹو کے سامنے پانی کا ایک قطرے کی طرح ہے۔
ٹائپ 2 تہذیب (civilization)
![]() |
| ڈائسن سٹرکچر |
اس ماڈل کے مطابق اگر ہم سورج سے نکل رہی ساری توانائی کہ ہے چار سو کے ساتھ 24 زیرو لگانے پر جتنے نمبر ہوتے ہیں اتنے واٹ کی توانائی کو جذب کر کے اس کا استعمال کر سکیں تب ہم ٹائپ 2 تہذیب بن جائیں گے۔ سورج کی توانائی کو جذب کرنا ہی نہیں بلکہ سورج کے پاس موجود سبھی سیاروں کا مکمل استعمال کر پائں گے۔ یہ تہزیب خلا میں گھوم رہے ایسٹرایڈ پر مائننگ کرنے میں کامیاب ہوگی۔ اب آپ کے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہوگا کہ ہم اتنی ساری توانائی کا کریں گے کیا اور اس کا استعمال کہاں کریں گے؟ تو میں آپ لوگوں کو بتا دو کہ آنے والے ہزار سالوں میں ہم ٹائپ 2 تہذیب بننے کے بعد میں جانے کیسی کیسی مشینری ایجاد کریں گے۔ روبوٹس کمپیوٹرز الیکٹرک پلینس اور خلا میں بھیجے جانے والے طرح طرح کے خلائی مقاصد، اور دوسرے سیاروں پر گھر بنانے کا کام بھی ہوگا۔ اور بھی نہ جانے کیا کیا جس کا خیال ہم گھر بیٹھے آج نہیں کر سکتے۔ چلیے اب بات کرتے ہیں اس تہذیب کی جو سب سے ایڈوانس تہذیب ہوگی۔ یعنی ٹائپ 3 تہذیب۔
ٹائپ 3 تہذیب (civilization)
اس تہذیب کا دوسرا نام گلیکٹک تہذیب بھی ہے ہے۔ اب تک تو ہم صرف اپنے ستاروں تک ہی محدود تھے۔ لیکن ٹائپ 3 تہذیب وہ تہذیب ہے جو پوری گلیکسی کی توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی۔ کیوں جھٹکا لگا، لگنے والی بات ہی ہے۔ اس تہذیب کے پاس اتنی طاقت ہوگی جس کا خیال کر پانا بھی ناممکن ہے۔ یہ تہذیب بھی ستاروں کی توانائی کو جذب کرکے اس کا استعمال کرے گی۔
![]() |
| ٹائپ 3 تہذیب وہ تہذیب ہے جو پوری گلیکسی کی توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی |
اور ایک اسٹرایڈ اور سیاروں پر قدرتی وسائل کیلئے مائننگ کر کے اس کا استعمال کرے گی۔ لیکن اس تہذیب اور دوسری تہذیبوں میں فرق یہ ہوگا کہ یہ تہذیب گلیکسی میں موجود سبھی سیاروں کی توانائی کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوگی۔ ٹائپ تھری تہذیب سیاروں کو شہروں کی طرح استعمال کرے گی۔ یعنی کبھی ایک سیارے پر بستی بسائے گی تو کبھی دوسرے پر۔ بس کبھی یہ خیال کیجئے کہ ایک ایسی تہذیب جو گلیکسی کے سارے سیاروں پر اپنی بستی بسا کر سارے ستاروں میں ڈایسن اسٹرکچر ماڈل کی مدد سے ساری توانائی کو جذب کر رہا ہے۔ یہ سوچ کر ہی ہم حیران رہ جائیں گے۔
نوٹ
ظاہر رہے کہ یہ اندازے سائنس کے اعدادوشمار پر مبنی ہے کیونکہ حالات بتاتے ہیں کہ آنے والی کچھ سدیوں کے اندر ہی ہو سکتا ہے کہ قیامت آ جائے۔ سو اگر ہمارے پاس کچھ سدیوں کا ٹائم ہے تو ہم اس میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔






0 Comments