جائزا (Overview)
جنات اللہ تعالی کی پیدا کردہ ایسی مخلوق جو انسانوں کی طرح ہی شعور رکھتی ہے، مگر انسانوں جتنا سمجھدار نہیں۔ یہ مخلوق ہمارے ساتھ ہی اس دنیا کے اندر ہی رہتی ہے مگر ہماری نظروں سے چھپی ہوئی ہے۔ لفظ جن کا ہی مطلب ہے چھپی ہوئی مخلوق اور یہ مخلوق ہم انسانوں کو دیکھ سکتی ہے اور ہمارے روز مرہ کی زندگی میں ہمارا ان سے واسطہ بھی پڑتا رہتا ہے۔ ابلیس یا شیطان بھی ایک جن ہے جو دن رات اپنے چیلوں کے ساتھ ہر وقت انسانیت کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ جنات اللہ تعالی کی ایک ایسی مخلوق ہے جنہیں انسان کی پیدائش سے بھی پہلے پیدا کیا گیا تھا لیکن کتنا پہلے اس کی کوئی بھی معلومات ہمیں قرآن پاک اور حدیث سے نہیں ملتی۔ مگر ان کا وجود قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ یہ مخلوق نہ صرف وجود رکھتی ہے بلکہ ان کی ایک الگ اپنی دنیا ہے جو انسان کی نظروں سے دور کسی الگ ڈائمنشن کے اندر رہتی ہے۔
| لفظ جن کا ہی مطلب ہے چھپی ہوئی مخلوق (The word which means hidden creatures) |
مگر آج کے دور کی سائنس جو کہ ہر روحانی اور مذہبی حکم کے پیچھے منطق، لوجک اور اس چیز کی موجودگی کا ثبوت تلاش کرتی ہے اور یہ سب نا ملنے پر اس کے وجود مثلاً اللہ تعالی کے وجود فرشتے، جنت، جہنم، روح اور جنات کے وجود کا بھی انکار کرتی ہے۔ کیونکہ ایک تو انہیں انسانی نظروں سے ان کی اصلی شکل میں دیکھنا ممکن نہیں اور دوسرا انہیں لبارٹریز کے اندر تجربے کے ذریعے ثابت کرنا ممکن نہیں۔ مگر یہ بات حقائق کے خلاف ہے کیونکہ دنیا کے اندر بے شمار ایسی چیزیں موجود ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، ہمیں نظر نہیں آتی۔ مگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں انہیں استعمال کرتے ہیں۔ پھر چاہے وہ موبائل فون پر ملنے والے سگنل ہوں انفرا ریڈ ریز, Tv پر ملنے والے سگنل سورج کی تپش وغیرہ یہ سب چیزیں ہمیں نظر تو نہیں آتی لیکن کیا ان کا کوئی وجود نہیں ہے؟ کیا ہم ان کی موجودگی سے صرف اس لئے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ ہمیں نظر نہیں آتی؟
قرآن پاک سے جنات کی تصدیق
قرآن کریم کے اندر جنات کے وجود کی تصدیق کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ اللہ پاک قرآن کریم کے اندر فرماتے ہیں " میں نے جنات اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا"۔ مزید ان کا ذکر "سُوْرَۃ رَحْمٰن" اور "سُوْرَۃ جِن" کے اندر بھی نام کے ساتھ موجود ہے۔
| ان کا ذکر "سُوْرَۃ رَحْمٰن" اور "سُوْرَۃ جِن" کے اندر نام کے ساتھ موجود ہے |
مگر سائنٹیفکلی طور پر انہیں ثابت کرنے کے لیے آج تک کوئی بھی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھے، کہ آخر کیسے وہ انسان کے جسم میں خون کی صورت میں بہ سکتے ہیں؟ اپنی شکل بدل کر ایک مادی جسم میں بدل سکتے ہیں۔
سائنٹفک ریسرچ
مگر حالیہ سائنٹفک ریسرچ نے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا اور انہیں احساس دلایا کہ وہ ہمارے اس کائنات اور دنیا کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے۔ کیونکہ ایکس بوسون یا گاٹ پارٹیکل ہو، ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی ہمیں بس یہ پتا ہے کہ یہ سب موجود ہیں۔ اور ان کا کردار ہماری تخلیق اور ہمارے روز مرہ کی زندگی سے بھی ہے مگر یہ کیسے کام کرتے ہیں ہمیں یہ نہیں پتا۔ لیکن اب اس لسٹ کے اندر ایک ایسا نام شامل کردیا گیا ہے جسے نیو ٹرینوز کہتے ہیں۔ اور یہ ایک ایسا فنڈامینٹل اور پر اسرار قسم کا پارٹیکل ہے۔ جسے گھوسٹ پارٹیکل بھی کہتے ہیں۔ جنات کی طرح ہماری نظروں سے دور مگر ہمارے آس پاس ہی موجود ہے۔
فنڈامنٹل پارٹیکل کی تعریف
فنڈامنٹل پارٹیکل انہیں کہتے ہیں جو اس کائنات کے اندر سب سے چھوٹے ہوں۔ ان سے چھوٹا سائز کے اندر کوئی بھی پارٹیکل نہیں ہوتا۔ یعنی یہ ہر ایک چیز کا بیسک سٹرکچر ہیں جس کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔
فنڈامنٹل پارٹیکل کی اقسام
فنڈامینٹل پارٹیکل دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو ہر طرح کے میٹر سے انٹریکٹ کرتے ہیں. دوسرا جو ہر طرح کی فورسز کو سمبھالتے ہیں۔ جو میٹر سے انٹریکٹ کرتے ہیں انہیں فرمیونز کہتے ہیں۔ اور جو فورسز کو سنبھالتے ہیں انہیں بوسونز کہتے ہیں۔
|
فرمیونز کی بھی دو اقسام ہوتی ہیں۔ پہلے کو قوارکس اور دوسرے کو لیپٹونز کہتے ہیں۔ قوارکس کا مشاہدہ صرف اس وقت کیا جا سکتا ہے جب وہ مل کر کوئی نیا پارٹیکل بنا لیں۔ جبکہ لیپ ٹونز کا اکیلے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کے کچھ پارٹیکل الیکٹرکل چارج ہوتے ہیں جنہیں ڈٹیکٹ کر نا ممکن ہے۔
گھوسٹ پارٹکل
مگر جن کے اندر چارج نہ ہو انہیں گھوسٹ پارٹیکل کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا مگر یہ موجود ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ گھوسٹ پارٹیکل میس لسّ نہیں ہوتے۔ ان کا میس کم زرور ہوتا ہے لیکن یہ میس لسّ نہیں ہوتے۔ اسی لئے ان کے اثر کو ڈٹیکٹ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اور سائنسدانوں کا بھی یہی ماننا ہے کہ یہ گھوسٹ پارٹیکل دراصل جنات ہو سکتے ہیں۔ جو انرجی کی صورت یا کسی فورس کی صورت انسانوں کے جسم میں سفر کر سکتے ہیں۔ انسانی جسم اور سوچ پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اپنی شکل بدل کر میٹر مثلًا کتے، بلی وغیرہ کی شکل میں بھی بدل سکتے ہیں۔
جنات کی تعداد
اسلامی روایت سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جنات کی اولاد یا تعداد انسانوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور ان کی رسائی پہلے آسمان تک ہے۔ حیرت انگیز طور پر سائنسدان بھی یہ کہتے ہیں کہ سو ٹریلین کے نزدیک نیوٹرینوز ہمارے جسم کے قریب سے اور اس کے اندر سے ہر وقت گزر رہے ہیں۔ اور سپیس میں بھی بے تحاشہ تعداد کے اندر موجود ہیں۔
گھوسٹ پارٹکل کی دریافت
23 فروری جاپان کی نیوٹرینو آبزرویٹری میں جو کہ سطح زمین سے ایک ہزار میٹر نیچے موجود ہے۔ یہاں پر ان کا پہلی بار مشاہدہ کیا گیا۔ پتہ چلا کہ یہ کسی بڑے دھماکے یا کسی سپرنووا جیسے واقعہ کی وجہ سے یہ پیدا ہوئے، انہیں تخلیق کیا گیا۔ مگر ہم یہ اب تک نہیں جانتے کہ یہ دراصل کیا کیا کر سکتے ہیں۔ یہ روشنی کی رفتار سے ہر لمحہ زمین پر اور آسمان پر سفر کر رہے ہیں۔ اور یہ اپنی شکل بدلنے کے ساتھ ساتھ، مختلف ڈائمینشن میں بھی جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ہم ان خصوصیات پر غور کریں تو یہ سب کی سب خصوصیات دراصل جنات میں موجود ہوتی ہیں۔ جو اپنی انرجی کی صورت میں موجود شکل کو بدل کر اپنی دنیا کی ڈائمنشن سے ہمارے ڈائمنشن میں آ سکتے ہیں۔ جس کے لیے انہیں ایک فزیکل جسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان جنات کو کسی جانور مطلب سانپ،کتے،بلی وغیرہ کی شکل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
| ان جنات کو کسی جانور مطلب سانپ،کتے،بلی وغیرہ کی شکل کا سہارا لینا پڑتا ہے |
اور یہ جاندار خود بھی قدرتی طور پر ایسی مخلوقات کو دیکھ سکتے ہیں جنہیں انسانی آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ اللہ تعالی نے کسی مصلحت کی وجہ سے جنات کی دنیا کا انسانوں سے پردہ رکھا ہوا ہے ورنہ دنیا کا نظام بالکل درہم برہم ہو جائے۔ اپنے آس پاس جنات کی فوج کو دیکھ کر ان کے حیرت زدہ صورتوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو دوبارہ سے عام انسانوں جیسے زندگی گزار سکے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کا فرشتوں کی طرح جنات سے واسطہ اور تعلق اس کی موت آنے تک رہتا ہی ہے۔
حدیث
صحیح حدیث کے اندر ہے کہ "ہر انسان کے ساتھ ایک ہم ذات یا شیطان جن ہوتا ہے" ہم ذات جن ایک طرح کا شیطان ہے جو ساری زندگی اس کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "لوگوں تم میں کوئی شخص نہیں جس کے ساتھ ہم ذات جن یا ہم ذات فرشتہ نہ ہو" لوگوں نے عرض کی اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "ہاں میرے ساتھ بھی ہے لیکن اللہ تعالی نے میری مدد فرمائی اور میرا وہ ہم ذات شیطان مسلمان ہوگیا لہذا وہ مجھے سوائے بھلائی کے کچھ نہیں کہتا"۔
خلاصہ
یعنی جب بھی کوئی انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ابلیس کا ایک شیطان بھی پیدا ہوتا ہے۔ جسے فارسی میں ہم ذات اور عربی میں وسواس کہتے ہیں۔ کیونکہ ابلیس کے ہر سیکنڈ کے اندر سینکڑوں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی مچھلی، سانپ اور ناگن وغیرہ ایک وقت کے اندر کئی ہزار انڈے دیتے ہیں۔ مگر یہ جنات کی دنیا دراصل کیسے دیکھتے ہیں۔ اور انسانی حدود کیا ہے جس سے آگے وہ اس ان دیکھی مخلوق کے بارے میں نہیں جان پائیں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اس وقت کی موجودہ سائنس گھوسٹ پارٹیکل کے عجیب و غریب برتاؤ پر آ کر ٹھہر گئی ہے۔ اور شاید اس سے آگے اللہ تعالی کی مصلحت کی وجہ سے کبھی نہ بڑھ پائے آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں اپنی قیمتی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں اس آرٹیکل کو پڑھنے کے لئے شکریہ۔
#Definition of Fundamental Particle.
#The number of giants.
#what is a jinn
#ghosts丨
0 Comments