جائزہ
(overview)
سن 1660ء سائنس کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم سال تھا۔ کیونکہ اس سال ایک ڈج عینک بنانے والے شخص نے دوربین ایجاد کی۔ شروع شروع میں اس دوربین کو صرف تفریح کے لئے استعمال کیا جاتا تھا یا پھر یہ سمندری لُٹیروں کے ہاتھ چڑھ گئی۔ جسے وہ دور سے آتے بحری جہازوں کو دیکھنے کے لئے استعمال کیا کرتے۔ اسٹرونومی کے اندر اس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
سائنسدان گلیلیو (Scientist Galileo)
گلیلیو وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے 1809 کے اندر اس دوربین کا رخ آسمان کی طرف کیا اور یوں ایسٹرونومی کی سائنس کے دور کا سنہرا آغاز ہوا۔ انسانوں نے اپنی ان آنکھوں سے آسمان کے اندر ان نظاروں کو دیکھا جس کو دیکھنے کے بارے میں وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ کیوں کہ اس وقت کیتھلک چرچ کا ماننا تھا کہ زمین اس کائنات کا سنٹر ہے اور سورج چاند ستارے سب اسی کا چکر لگاتے ہیں۔ مگر گلیلیو نے انہیں غلط ثابت کیا اور بتایا کہ ہماری یہ دنیا تو دراصل اس کائنات کا ایک ذرّہ بھی نہیں ہے۔ اس زمین سے آگے بہت سارے جہان ہمارے منتظر ہیں۔ اور سورج زمین کا نہیں بلکہ زمین سورج کا چکر لگا رہی ہے۔ اور ہماری یہ کائنات ہر لمحہ ہر سیکنڈ پھیل رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ عقیدہ اس کیتھلک چرچ کی تعلیمات کے خلاف تھا۔ اسی لیے گلیلیو کو لادین کہ کر ہمیشہ کے لیے قید کر دیا گیا۔ جہاں پر اسی قسما پرسی کی حالت کے اندر ان کی موت ہوگئی۔
ہبل دوربین
(Hubble telescope)
مگر خلا کی تحقیق اور اس کے بارے میں جاننے کی جستجو یہاں پر رکی نہیں کیوں کہ اس کے چار سو سال کے بعد ایسا وقت آیا جب زمین پر بڑی بڑی دوربینوں کو نصب کر دیا گیا جن سے آسمان میں تیرتے پلینٹس، ستارے اور لاتعداد گلیکسیز کا مشاہدہ کیا گیا۔ پھر 1990 میں اسٹرونومی کی دنیا کے اندر ایک نیا انقلاب اس وقت آیا جب ہبل ٹیلی سکوپ لانچ کیا گیا۔ کیونکہ ہبل دنیا کی پہلی ایسی دوربین تھی جو کہ دنیا کے گرد گھومتی ہے اور خلا کے اندر کام کرتی ہے۔ اس دوربین نے خلا سے یعنی زمین کے مدار سے باہر نکل کر اسٹرونومیکل باڈیز کا مشاہدہ کیا اور یوں ایک ایک کر کے اس کائنات کے راز ہم انسانوں پر کھلنے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ جو کچھ بھی ہم آج کائنات کے بارے میں جانتے ہیں وہ دراصل سب کچھ ہبل ٹیلی سکوپ کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔
(Hubble telescope) ہبل دوربین |
ہبل کو کام کرتے ہوئے 30 سال سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اور اسے ابھی تک تاریخ کی کامیاب ترین سپیس ٹیلیسکوپ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ لیکن اب ہبل ٹیلی سکوپ بوڑھی ہو رہی ہے اور شاید آنے والے چند سالوں میں اسے منسوخ کرنا پڑے۔ اسی لئے اب ہمیں ایک نئی اور ایسی سپیس ٹیلی سکوپ کی ضرورت ہے جو زیادہ ایڈوانس یعنی نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کو استعمال کرے۔ اور اس اگلی ٹیلی سکوپ کا نام ہے "جیمز ویب ٹیلی سکوپ"۔ یہ ٹیلی سکوپ ہبل سے کس طرح سے مختلف ہے اور یہ ایسے کیا کمال کر سکتی ہے؟ جو انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دے۔ یہ کیسے انسانوں کے لیے کائنات کی تخلیق کے متعلق رازوں کو کھوجے گی؟ اور ناسا کے سائنٹسٹس کو کیوں یہ امید ہے کہ وہ ایلین لائیف سے ملاقات کرنے کے لئے ان کے بہت قریب آتے جا رہے ہیں ان سب باتوں کے جواب جانیں گے آج کے اس آرٹیکل میں۔
ماہر فلکیات جیمز ہبل اور جیمز ویب
(Astronomer James Hubble and James Webb)
ہم جانتے ہیں کہ ہبل ٹیلی سکوپ کا نام مشہور ماہر فلکیات جیمز ہبل کے نام پر رکھا گیا تھا۔ جنہوں نے اپنی اوبزرویشن سے ملکی وے گلیکسی کے علاوہ پہلی بار کسی دوسری گلیکسی کا مشاہدہ کیا، اور یہ دریافت کیا کہ ہماری یہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے جیسا کہ گلیلیوں کا کہنا تھا۔ اس سے پہلے سائنسدانوں کو یقین تھا کہ ہماری ملکی وے گلیکسی ہی ٹوٹل کائنات ہے اور کائنات کا مرکز ہے۔
جبکہ جیمز ویب اسپیس ٹیلیسکوپ کا نام مشہور آسٹرونومر جیمز ویب کے نام پر رکھا گیا ہے جو کہ 1961 سے 1968 تک ناسا کے منتظم تھے۔ ناسا کے مطابق اپولو مشن کو کامیاب بنانے میں ان کا بہت بڑا کردار تھا۔
ہبل ٹیلی سکوپ اپنے ٹائم کے اندر سائز اور پاور کے اعتبار سے باقی تمام ٹیلی سکوپ سے بہت بڑی تھی۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کا سائز ہبل سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔ موازنے کے لئے آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ ہبل ٹیلی سکوپ کا سائز ایک بس کے برابر تھا جبکہ جیمز ویب کا سائز بوئنگ 737 (Boing) جہاز کے آدھے کے برابر ہے۔ جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ کے شیشے کا ڈایا میٹر ہبل ٹیلی سکوپ کے شیشے کے ڈایا میٹر سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس کے گرد ایک شیٹ ہے جو اسے سورج کی گرمی سے بچاتی ہے۔
(How many dollars did NASA spend on the James Webb and Hubble telescope?)
جیمز ویب اور ہبل ٹیلی سکوپ پر کتنے ڈالرز کی لاگت آئی؟
جب ہبل ٹیلی سکوپ پر کام شروع کیا گیا تو اندازہ تھا کہ اس پر تقریبا تیس سے چالیس کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے لیکن جیسے جیسے اس پروجیکٹ پر کام ہوتا گیا اس کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا رہا اور ہبل کو لانچ کرنے پر کُل پانچ ارب ڈالر خرچ ہوئے۔
جبکہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ کیونکہ جب اس ٹیلی سکوپ کے ڈیزائن کا آغاز کیا گیا تھا تو اندازہ تھا کہ اس پر تقریبا ایک ارب ڈالر خرچ ہوں گے لیکن اب تک اس پر 9 ارب سے بھی زیادہ کی رقم خرچ ہو چکی ہے۔
جیمز ویب اور ہبل دوربین کے سینسرز
(sensors of James Webb and the Hubble Telescope)
ہبل اور جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ کے اندر سب سے بڑا فرق ان کے سینسرز کا ہے۔ جو الیکٹرو میگنیٹک سپیکٹرم کے مختلف حصوں کو ڈیٹیکٹ کرتے ہیں۔ ہم الیکٹرومیگنیٹک سپیکٹرم کا بہت ہی چھوٹا حصہ دیکھ پاتے ہیں جسے مرئی سپیکٹرم کہتے ہیں۔ لیکن مرئی سپیکٹرم کے اندر ایکسریز، گاما ریز اور الٹرا وائلڈ ریز بھی ہوتی ہیں۔ ان کی فریکوئنسی روشنی کی فریکوئنسی سے زیادہ ہوتی ہے۔ جبکہ انفراریڈ اور ریڈیو ویوز کی فریکوئنسی روشنی کی فریکوئنسی سے کم ہوتی ہے۔ دور دراز کی گلیکسیز کے مشاہدے کے لئے مرئی سپیکٹرم سے کہیں زیادہ جانکاری انفراریڈ اور ریڈیو ویوز کی فریکوئنسی میں پائی جاتی ہے۔ ہبل سکوپ کے زیادہ تر ڈیٹیکٹرز الٹراوائلڈ اور مرئی سپیکٹرم کو ڈیٹکٹ کرتے ہیں۔ جبکہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے ڈیٹیکٹرز کو انفراریڈز اور ریڈیو فریکونسی کو ڈیٹکٹ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جو ہبل ٹیلی سکوپ ڈیٹکٹ نہیں کر پاتی۔ اسی طرح جیمز ویب ٹیلی سکوپ بڑے شیشے کی وجہ سے زیادہ لائٹ کو اوبزرب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے جس کا مطلب ہم وقت میں بے پناہ حد تک پیچھے جا سکتے ہیں۔
James Webb Telescope جیمز ویب دوربین |
یہ اس طرح کی ایک ٹائم مشین ہے جو کہ ایسے گلیکسیز اور اسٹارز کو بھی دکھائے گی جو ان سے 13 عرب لائٹ ایر دور یا سب سے پہلے کی بھی ایسی گلیکسیز کو دکھائے گی جو کہ اس سے پہلے ہماری کائنات کے شروعات کے وقت موجود تھی۔ اس نئے ٹیلی سکوپ کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خلا میں جانے کے بعد ان ستاروں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرے گی جو کائنات بننے کے بعد سب سے پہلے روشن ہوئے۔ یہ ایسے زمین جیسے سیاروں اور سورج کو بھی تلاش کر پائے گی جہاں پر ماضی میں شاید زندگی کا وجود رہا ہو یا پھر اس وقت بھی موجود ہو (یعنی ایلین لائف)۔ اور اگر ایسا ہے تو ان سے رابطہ کرنا بھی ممکن ہوگا۔
(L1 point) L1 پوائنٹ
یہ ٹیلی سکوپ ہبل کے طرح ہمارے زمین کے گرد نہیں گھومے گی بلکہ 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج کا چکر لگائے گی جسے L1 کہتے ہیں۔ اس جگہ پر سورج زمین اور چاند کی روشنی نہیں پہنچ پاتی کیونکہ یہ جگہ زمین کی اس ڈائریکشن میں ہے جو سورج سے ہمیشہ مخالف سمت میں ہوتا ہے یہاں ہمیشہ زمین کا سایہ رہتا ہے۔
(L1 point) L1 پوائنٹ |
اسی لئے اس کے ڈیٹیکٹرز کو مائنس ٹو ڈگری سینٹی گریڈ پر رہنا ممکن ہوگا جو کہ ہبل کے برداشت ٹمپریچر سے پندرہ گنا کم ہے۔ ایک بار یہ ٹیلی سکوپ زمین سے اپنے مدار کے اندر پہنچ جائے تو اس کا زمین سے فاصلہ اس قدر ہوگا کہ اس پر مرمت کا کوئی بھی مشن بھیج پانا بالکل ناممکن ہوگا اور اسے ٹھیک کر پانا ممکن نہیں ہوگا اسی لئے اس کے لانچ کی ڈیٹ کو کئی بار بدلا گیا۔ ہبل ٹیلی سکوپ کا مقصد کائنات کے رازوں کو جاننا تھا ۔ کہ وہاں پر کیا کچھ اور کتنی دوری پر موجود ہے؟ اور یہ بنتا کیسے ہیں؟ اس کائنات کے قانون کیا ہے؟ جبکہ جیمز ویب سپیس ٹیلیسکوپ کا مقصد کائنات کی بناوٹ کو ہی سمجھنا ہے اور ایک بار پھر سے مکمل تفصیل کے ساتھ یہ ہم انسانوں کو کائنات کا نقشہ دوبارہ بنانے میں مدد فراہم کرنے والی ہے۔ اور اس کی اس قدر جانکاری سے ممکن ہے کہ ہمیں اپنی سائنس کی کتابوں کو ایک بار پھر سے لکھنا پڑے۔
جیمز ویب ٹیلی سکوپ کب لانچ ہوگا؟
(When will the James Webb Telescope launch?)
پہلی بار اسے سن 2018 کے اندر لونچ کیا جانا تھا۔ لیکن ناسا ٹائم پر اس کے پارٹس کو نہیں جوڑ پایا لہٰذا اس کی ڈیٹ کو بدل کر 2020 کا ٹائم رکھا گیا اس کے بعد کرونا کی وجہ سے یہ لونچ نہ ہو سکا۔ اور اب 18 دسمبر 2021 کو اس کے لونچ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہے۔
امید کرتا ہوں آپ کو جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے متعلق بہت کچھ نیا جاننے کو ملا ہوگا۔
Tags
James Webb Telescope Urdu.
James Webb Telescope launch date Urdu?
James Webb Telescope vs Hubble Urdu.
James Webb Telescope orbit Urdu.
James Webb Telescope cost Urdu.
James Webb Telescope facts Urdu.
James Webb Telescope size Urdu.
When is the James Webb Telescope going to be launched Urdu?
0 Comments