جائزہ (overview)


solar-system-with-pluto-Planet-International-Astronomical-Union-General-Assembly-American astronaut-Clyde-Tombaugh-انٹرنیشنل-ایسٹرونومیکل-یونین-سیارہ-جنرل-اسمبلی-امریکی-خلاباز-کلائیڈ-ٹومباگ
(Solar system) سولر سسٹم


ہم سب نے یقیناً بچپن سے سکول میں یہ پڑھا ہے اور سنا ہے کہ پلوٹو ہمارے سولر سسٹم کا نواں سیارہ ہے۔ جو سورج سے سب سے دور اوربٹ کر رہا ہے اور سائز کے اندر سب سے چھوٹا اور ٹھنڈا سیارہ ہے۔ مگر اچانک ایسا کیا ہوا جو اس کو سولر سسٹم کے اندر سے ہی غائب کر دیا گیا؟ آج کوئی بھی اس کا ذکر ایک پلینٹ کے طور پر نہیں کرتا۔ پلوٹو آخر کہاں چلا گیا ہے؟ کیا یہ ختم ہوچکا ہے؟ یا پھر ہم سے کہیں زیادہ مزید دور جا چکا ہے۔ جہاں سے ہم انسانوں کے لیے اس کے بارے میں جاننا آج ممکن نہیں ہے۔ ان سب باتوں کا جواب ہے کہ سال 2006 میں انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل یونین نے اپنے 26th جنرل اسمبلی کے اندر پلوٹو کو ایک بونس سیارہ کہہ کر پلینٹ کی تین ڈیفینیشن رکھی۔ جو بھی اسٹرونومیکل باڈی ان تین کنڈیشن کو پورا کرے گی وہ پلینٹ یا سیارہ کہلائے گی۔ اور ان میں سے ایک شرط نے پلوٹو کو سولر سسٹم سے ہمیشہ کے لئے باہر نکال دیا۔ اب وہ تاریک اور برفیلی سپیس کے اندر اپنے آس پاس موجود اربوں ایسٹرائیڈ سے گھرا ہوا آج بھی سورج کے گرد اپنے مدار کے اندر چکر لگا رہا ہے۔ مگر سولر سسٹم فیملی کا حصہ نہیں۔ ایسا کیوں ہے اور وہ تین ڈیفینیشن دراصل کیا ہیں یہ سمجھنے سے پہلے آپکو پلوٹو کی بناوٹ اس کی لوکیشن اور اس کی ڈسکوری کی ہسٹری کو جاننا بہت ضروری ہے۔


پلوٹو کی تاریخ

(History of Pluto)


پلوٹو کی کھوج در اصل سال 1930 سے شروع ہوئی اور ایک امریکن ایسٹرو نوٹ کلیڈ ٹومبگ نے پہلی بار پلوٹو کی کھوج کی۔ جسے آگے جاکر نویں پلینٹ کا درجہ دیا گیا۔ میتھمیٹیکل کلکولیشن کے حساب سے اس کا سائز مرکری سیارے سے بھی بڑا ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کا رقبہ زمین پر موجود رشیا ملک سے صرف تھوڑا سا بڑا تھا۔


solar-system-with-pluto-Planet-International-Astronomical-Union-General-Assembly-American astronaut-Clyde-Tombaugh-انٹرنیشنل-ایسٹرونومیکل-یونین-سیارہ-جنرل-اسمبلی-امریکی-خلاباز-کلائیڈ-ٹومباگ
دھرتی اور پلوٹو کا موازنہ  (Earth compared with Pluto) 

کیونکہ اس کا رقبہ ہے 17.7 ملین اسکوئر کلومیٹر جبکہ رشیا کا 17.1 اسکوئر کلومیٹر ہے. جوکہ دنیا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔ جس کا ڈایا میٹر 2376.6 کلو میٹر ہے۔ جو کہ ہمارے چاند سے  1097.6 کلو میٹر کم ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا برف کا گولا ہے جس کی سطح کا ٹمپریچر 223- ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اسی لیے یہاں پر گیسز بھی جمی ہوئی حالت میں موجود ہے۔ یہ باقی سولر سسٹم کے پلینٹس سے بالکل الگ ہے۔ کیونکہ اس کا اوربٹ ہی زیادہ لپٹکل یا انڈے کی شیپ کا ہے۔ یہ سورج کے گرد 70 ڈگری کے اینگل کے اندر اوربٹ کرتا ہے. اور یہ زمین سے بےحد دور 7.5 ملین کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے. اسی لئے اسے سورج کا ایک چکر لگانے کے لئے 248 سال کا وقت لگتا ہے۔


پلوٹو کی دریافت

(Discovery of Pluto)


اٹھارہ سو چالیس کے اندر یورین سیارے کی موجودگی میں میتھمیٹیکل طور پر پریڈکشن ایک فرنچ میتھی میڈیسن اربن لی ویریر نے کر دی تھی۔ جب اس نے دیکھا. یورین پلینٹ جو کہ نیپچون سے پہلے موجود سیارہ ہے، اس کے اوربٹ کے اندر کوئی چیز ہلچل یا بدلاؤ پیدا کر رہی ہے، جو آٹھواں سیارہ ہو سکتا ہے۔ اور یوں نیپچون سیارے کی کھوج ہوئی جو کہ پلوٹو سے پہلے موجود ہے۔ بالکل اسی طرح نیپچون کے مدار کے اندر ہلچل اور بدلاؤ نے پلوٹو کی دریافت کی۔ سال 1929 میں اس پر ریسرچ شروع ہوئی تو کلیڈ ٹومبگ کو یہ کام سونپا گیا. اور یوں 28 فروری 1930 کو اس کی دریافت نوویں سیارے کے طور پر ہوئی تو اپنی ساری کیلکولیشن کو غلط ثابت ہوتا دیکھ کر وہ حیران رہ گئے کہ یہ زمین کے میس کے محض برابر نہیں بلکہ اس کا میس تو چاند سے بھی کم ہے۔ کیوں کہ پلوٹو کے چاند سیرن نے اس کے متعلق ہمیں بتایا کہ یہ زمین کے مقابلے میں صرف %0.0022 ہی ہے۔ 


اب تک ہمارے پاس اس کی صرف دھندلی تصویریں ہی تھی اس لیے اس کے بارے میں مزید جاننا بہت ضروری تھا۔ اور وہ ممکن تھا کسی سپیس پروپ کی مدد سے۔ مگر 17 ارب کلومیٹر کی دوری تک جانا کوئی آسان کام نہیں تھا اور اس کے ساتھ ساتھ پرفیکٹ اینگل اور کلکولیشن بھی ضروری تھی اگر اس میں ذرا بھی گڑبڑ ہو جاتی تو یہ مشن فیل ہوجاتا۔ 1997 کے اندر پہلے وایجر ٹو اور پھر وایجر ون کو گیس چائلڈ کی ریسرچ کے لیے بھیجا گیا جس کے اندر پلوٹو بھی شامل تھا۔ اس نے ہمیں ان پلینٹس کے بارے میں جاننے کے لئے بہت قیمتی جانکاری فراہم کی لیکن پلوٹو ابھی بھی ہماری پہنچ سے بہت دور تھا ہمارے پاس اس کی ایک دھندلی تصویر کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا۔


نیو ہورائزن اسپیس کرافٹ 

(New Horizon spacecraft)

پھر ٹائم آیا 19 جنوری 2006 کا جب ناسا نے نیو ہورائزن اسپیس کرافٹ کو خاص طور پر خلا میں پلوٹو کے بارے میں جاننے کے لئے لانچ کیا۔ اور اس نے انسانی تاریخ کا خلا میں سب سے دوری تک جانے والا سپیس کرافٹ بننا تھا اور آج بھی ہم سے رابطہ  ٹوٹنے کے باوجود بھی یہ خلا کے اندر کہیں پر دور مسلسل آگے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یہ پانچ ارب کلومیٹر کی دوری کا فاصلہ ساڑھے نو سال کے اندر تہہ کر کے پلوٹو سے صرف دس دن دور تھا کہ اچانک اس کا رابطہ ہم سے ٹوٹ گیا۔


solar-system-with-pluto-Planet-International-Astronomical-Union-General-Assembly-American astronaut-Clyde-Tombaugh-انٹرنیشنل-ایسٹرونومیکل-یونین-سیارہ-جنرل-اسمبلی-امریکی-خلاباز-کلائیڈ-ٹومباگ
نیو ہورائزن (New Horizon)

اسے پلوٹو کے گرد موجود کائپر بیلٹ کو بھی اسٹڈی کرنا تھا جو کہ کئی چھوٹے سیاروں، ہزاروں پرانے برفیلے اوبجیکٹس، اربوں کمیٹس یا برفیلے اسٹرائڈز کا گھر ہے۔ کیوں کہ یہ ہمیں ہمارے سولر سسٹم کی بناوٹ کے بارے میں بہت کچھ بتانے والے تھے۔ تقریبا چار لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ ہمارے چاند تک اس نے صرف 9 گھنٹے میں طے کر لیا تھا۔ ایک سال میں جوپیٹر تک پہنچ کر اس نے گریویٹیشنل سلنگ شوٹ کی مدد سے اپنی رفتار مزید بڑھا دی. اور یہ رفتار تھی پچاس ہزار کلومیٹر پر گھنٹہ۔ اگلے آٹھ سال تک یہ اسی طرح چلتا رہا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس رفتار پر اسے پلوٹو پر اتارنا یا اس کو آہستہ کرنا اس وقت ممکن نہیں تھا۔ اس لیے یہ صرف ایک فلائی بائی مشن تھا۔ صرف ایک چانس تھا کہ پلوٹو کے اوپر سے چکر لگا کر نیو ہورائزن اسپیس کرافٹ اس کو اوربٹ کر کے تمام ڈیٹا اکٹھا کرے۔ ان کو زمین سے آپریٹ کرنے کے لیے ایک سگنل کو روشنی کی رفتار سے بھی ساڑھے چار گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ اس لئے نیوہورائزن کے اندر یہ کمانڈز پہلے سے موجود تھی کہ اسے کس وقت اور کہاں عمل کرنا ہے۔ لیکن دس دن پہلے ہی جب ہم پلوٹو کے بہت زیادہ نزدیک تھے، ہورائزن سے رابطہ اچانک ٹوٹ گیا۔اور پھر دو گھنٹے کی مسلسل محنت کے بعد جب یہ رابطہ دوبارہ محال ہوا تو سارا کا سارا سسٹم ریبوٹ ہو چکا تھا یعنی کہ سب ڈیٹا ختم ہو گیا تھا اور کچھ بھی نہیں بچا تھا۔


سائنٹسٹس نے 72 گھنٹے لگاتار کام کرکے دوبارہ بغیر کسی غلطی کے، کئی کمانڈز کو اپلوڈ کیا۔ اور پھر نیو ہورائزن نے پلوٹو کی ایسی حیرت انگیز تصاویر بھیجنا شروع کی جس میں ہمیں پتا چلا کہ یہ نائٹروجن گیس سے بھری برفیلی وادیوں پر مشتمل ایک ٹھنڈا ترین گولا ہے۔ اور ہم اس کے اوربٹ، موسم اور سٹرکچر کے متعلق تمام ضروری باتیں جان گئے تھے۔ لیکن سوال یہ تھا کہ نیو ہورائزن کا اب کیا کیا جائے۔ جنوری 2019 تک یہ آگے بڑھتے ہوئے اپنا خد کا ورلڈ ریکارڈ توڑ کر کائپر بیلٹ تک جا پہنچا جو کہ پلوٹو سے بھی کئی ارب کلومیٹر دور ہے۔ مگر اس کے بعد اس کے کیمرے بند ہوگئے، اس سے رابطہ ٹوٹ گیا اور اب نہ جانے وہ خلا کے اندر کتنی دوری تک اور کہاں تک پہنچ چکا ہوگا. جس کے بارے میں نہ تو کوئی خیال ہے اور نہ ہی ہم اسے دیکھ سکتے ہیں.


پلینٹ کی تین تعریفیں

(Three definitions of the plant)

سال 2005 میں ایک نتے پلینٹ ایریز کی دریافت ہوئی جو کہ پلوٹو سے بھی کئی زیادہ دور اور کئی زیادہ میسو تھا۔ تو اس نے انٹرنیشنل اسٹرونومیکل یونٹ کو پلینٹ کو دوبارہ سے ڈیفائن کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور یوں 2006 کے چھبیسویں جنرل اسمبلی کے اندر ایک باڈی کو پلینٹ کہلانے کے لیے تین شرائط لاگو کئے گئے جو نیچے درج ذیل ہیں۔


1. کوئی بھی ایسٹرونومیکل باڈی پلینٹ تبھی کہلائے گا اگروہ سورج کے گرد چکر لگاتا ہو، وہ بھی اپنے خود کے اوربٹ میں.

2. اس کا اتنا میس ہو کہ وہ خود کو راؤنڈ شیپ کے اندر برقرار رکھ سکے۔

ان دونوں شرائط کو پلوٹو تو فالو کرتا ہے لیکن تیسری شرط یہ تھی.


3. کہ وہ اپنے آس پاس کے اوربٹ کو صاف رکھے اور اگر اس کے اوربٹ کے آس پاس کچھ موجود ہے مثلاً سیٹرن کے اردگرد موجود اسٹرائیڈز جس کا چکر لگاتے ہیں یہ ایسے ہی اس پلینٹ کا چکر لگائیں یا اس سے ٹکرا کر اس میں جڑ جائیں.


یہی تیسری شرط تھی جس کو پلوٹو فالو نہیں کرتا۔ اس کا سائز اتنا چھوٹا ہے کہ اس کے گریوٹی نہ تو انہیں گھما سکتی ہے اور نہ ہی خود میں سما سکتی ہے۔ اسی لیے اسے ایک بونس سیاروں کی کیٹگری کے اندر ڈال دیا گیا.


solar-system-with-pluto-Planet-International-Astronomical-Union-General-Assembly-American astronaut-Clyde-Tombaugh-انٹرنیشنل-ایسٹرونومیکل-یونین-سیارہ-جنرل-اسمبلی-امریکی-خلاباز-کلائیڈ-ٹومباگ
پلوٹو  (Pluto) 

جس میں اور بھی چار سیارے شامل ہیں۔ جو پلوٹو کی طرح اپنے مدار کے اندر ہمارے سورج کا چکر لگا رہے ہیں۔ یعنی پلوٹو پہلے کی طرح ہمارے سولر سسٹم میں موجود ہے جو تباہ نہیں ہوا بس اس کی کیٹگری بدل گئی ہے۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے لونچ ہوتے ہی ہمیں اس کی اتنی صاف تصویریں ملنی شروع ہو جائیں گی جو کہ ہمیں اس برفیلی زمین کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے لئے فراہم کریں گی جو ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ خلا کے اندر موجود انسانی تاریخ کی سب سے ایڈوانس ترین ٹیلی سکوپ ہبل پلوٹو کی دھندلی تصویریں لینے کے قابل ہے۔ تو اس کے لئے ہمیں صرف کچھ وقت کا انتظار کرنا پڑے گا۔


Tags

Pluto is not a Planet.
Pluto moons.